یکشنبه - 24 اسفند 1404
{"Id":0,"Name":null,"Mobile":null,"Email":null,"Token":null,"Type":0,"ReferencerId":null,"VatConfirm":false,"PublicToken":null,"Culture":"fa-ir","Currency":"usd","CurrencySign":"$","CountryIsoCode":"us","ProfileIsoCode":null,"HasSubset":false,"Discount":0.0,"IsProfileComplete":false,"HasCredit":false,"LastActivity":"0001-01-01T00:00:00"}
login
ورود
shopping cart 0
سبد خرید

سبد خرید

Menu

اطلاعات محصول
شابک: 9693536584
گروه سنی: بزرگسال
صفحات: 619
وزن: 776 g
ابعاد: 14 x 21 x 0٫77 cm
جلد کتاب: جلد سخت
موضوعات:

سرگوشیاں اقبال کے ساتھ اردو 1404

Sargoshiyāṉ Iqbāl ke sāth

نویسنده: Abdāl Belā
امتیاز:
39٫66 $
7 تا 10 هفته
لیست علاقه‌مندی‌ها
Wishlist
اطلاعات محصول
شابک: 9693536584
گروه سنی: بزرگسال
صفحات: 619
وزن: 776 g
ابعاد: 14 x 21 x 0٫77 cm
جلد کتاب: جلد سخت
موضوعات:

ایک دن میرا قدیمی کلاس فیلو گہرا دوست پروفیسر ادریس فاروق بٹ میرے پاس آیا۔ اس کا آنا ہمیشہ ہی میرے لیے خوشی کا باعث ہوتا۔ ہم دیر تک گزرے وقتوں کی باتیں کرتے رہتے۔ مگر اس روز ادریس نے آنے والے وقت کی کنڈی ہلا دی۔ بولا میرا خواب سنو، خواب میرا لیکن پیغام اس میں تیرے لیے۔ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ ادریس بولا خواب میں، میں اقبالؒ کی محفل میں جا نکلا۔ دیکھا ایک کمرہ ہے۔ لوگ اقبالؒ کی طرف رخ کیے زمین پر بچھی دری پہ بیٹھے ہیں۔ میں بھی اس کمرے میں جاتا ہوں اور خاموشی سے بیٹھے لوگوں میں بیٹھ جاتا ہوں۔ سامنے اقبالؒ اپنی کرسی پہ حقے کی نے پہ ہاتھ رکھے، ہاتھ پہ اپنا چہرہ ٹکایے بیٹھے کسی گہری سوچ میں ہیں۔ سوچتے سوچتے ایک لمحہ کو چہرہ اوپر اٹھاتے ہیں۔ حقے کا ایک کش لیتے ہیں اور کہتے ہیں:


 

more

ایک دن میرا قدیمی کلاس فیلو گہرا دوست پروفیسر ادریس فاروق بٹ میرے پاس آیا۔ اس کا آنا ہمیشہ ہی میرے لیے خوشی کا باعث ہوتا۔ ہم دیر تک گزرے وقتوں کی باتیں کرتے رہتے۔ مگر اس روز ادریس نے آنے والے وقت کی کنڈی ہلا دی۔ بولا میرا خواب سنو، خواب میرا لیکن پیغام اس میں تیرے لیے۔ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ ادریس بولا خواب میں، میں اقبالؒ کی محفل میں جا نکلا۔ دیکھا ایک کمرہ ہے۔ لوگ اقبالؒ کی طرف رخ کیے زمین پر بچھی دری پہ بیٹھے ہیں۔ میں بھی اس کمرے میں جاتا ہوں اور خاموشی سے بیٹھے لوگوں میں بیٹھ جاتا ہوں۔ سامنے اقبالؒ اپنی کرسی پہ حقے کی نے پہ ہاتھ رکھے، ہاتھ پہ اپنا چہرہ ٹکایے بیٹھے کسی گہری سوچ میں ہیں۔ سوچتے سوچتے ایک لمحہ کو چہرہ اوپر اٹھاتے ہیں۔ حقے کا ایک کش لیتے ہیں اور کہتے ہیں:


 

more