söndag - 2026 15 mars
{"Id":0,"Name":null,"Mobile":null,"Email":null,"Token":null,"Type":0,"ReferencerId":null,"VatConfirm":false,"PublicToken":null,"Culture":"sv-se","Currency":"usd","CurrencySign":"$","CountryIsoCode":"us","ProfileIsoCode":null,"HasSubset":false,"Discount":0.0,"IsProfileComplete":false,"HasCredit":false,"LastActivity":"0001-01-01T00:00:00"}
login
Logga in
shopping cart 0
Kundvagn

Kundvagn

Menu

Produktinformation
ISBN: 9693536584
Åldersgrupp: Vuxen
Sidor: 619
Vikt: 776 g
Produktmått: 14 x 21 x 0 , 77 cm
Bokomslag: Inbunden
Ämnen:

Sargoshiyāṉ Iqbāl ke sāth Urdu 2026

سرگوشیاں اقبال کے ساتھ

Författare: Abdāl Belā
Betyg:
39,66 $
7-10 Veckor
Önskelista
Wishlist
Produktinformation
ISBN: 9693536584
Åldersgrupp: Vuxen
Sidor: 619
Vikt: 776 g
Produktmått: 14 x 21 x 0 , 77 cm
Bokomslag: Inbunden
Ämnen:

ایک دن میرا قدیمی کلاس فیلو گہرا دوست پروفیسر ادریس فاروق بٹ میرے پاس آیا۔ اس کا آنا ہمیشہ ہی میرے لیے خوشی کا باعث ہوتا۔ ہم دیر تک گزرے وقتوں کی باتیں کرتے رہتے۔ مگر اس روز ادریس نے آنے والے وقت کی کنڈی ہلا دی۔ بولا میرا خواب سنو، خواب میرا لیکن پیغام اس میں تیرے لیے۔ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ ادریس بولا خواب میں، میں اقبالؒ کی محفل میں جا نکلا۔ دیکھا ایک کمرہ ہے۔ لوگ اقبالؒ کی طرف رخ کیے زمین پر بچھی دری پہ بیٹھے ہیں۔ میں بھی اس کمرے میں جاتا ہوں اور خاموشی سے بیٹھے لوگوں میں بیٹھ جاتا ہوں۔ سامنے اقبالؒ اپنی کرسی پہ حقے کی نے پہ ہاتھ رکھے، ہاتھ پہ اپنا چہرہ ٹکایے بیٹھے کسی گہری سوچ میں ہیں۔ سوچتے سوچتے ایک لمحہ کو چہرہ اوپر اٹھاتے ہیں۔ حقے کا ایک کش لیتے ہیں اور کہتے ہیں:


 

more

ایک دن میرا قدیمی کلاس فیلو گہرا دوست پروفیسر ادریس فاروق بٹ میرے پاس آیا۔ اس کا آنا ہمیشہ ہی میرے لیے خوشی کا باعث ہوتا۔ ہم دیر تک گزرے وقتوں کی باتیں کرتے رہتے۔ مگر اس روز ادریس نے آنے والے وقت کی کنڈی ہلا دی۔ بولا میرا خواب سنو، خواب میرا لیکن پیغام اس میں تیرے لیے۔ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ ادریس بولا خواب میں، میں اقبالؒ کی محفل میں جا نکلا۔ دیکھا ایک کمرہ ہے۔ لوگ اقبالؒ کی طرف رخ کیے زمین پر بچھی دری پہ بیٹھے ہیں۔ میں بھی اس کمرے میں جاتا ہوں اور خاموشی سے بیٹھے لوگوں میں بیٹھ جاتا ہوں۔ سامنے اقبالؒ اپنی کرسی پہ حقے کی نے پہ ہاتھ رکھے، ہاتھ پہ اپنا چہرہ ٹکایے بیٹھے کسی گہری سوچ میں ہیں۔ سوچتے سوچتے ایک لمحہ کو چہرہ اوپر اٹھاتے ہیں۔ حقے کا ایک کش لیتے ہیں اور کہتے ہیں:


 

more