الأحد - 1447 26 رمضان
{"Id":0,"Name":null,"Mobile":null,"Email":null,"Token":null,"Type":0,"ReferencerId":null,"VatConfirm":false,"PublicToken":null,"Culture":"ar-sa","Currency":"usd","CurrencySign":"$","CountryIsoCode":"us","ProfileIsoCode":null,"HasSubset":false,"Discount":0.0,"IsProfileComplete":false,"HasCredit":false,"LastActivity":"0001-01-01T00:00:00"}
login
تسجيل الدخول
shopping cart 0
السلة

السلة

المجموع
0  
ContinuetoCheckout

Menu

معلومات المنتج
 ISBN رقم: 9693536584
الفئة العمرية: البالغون
الصفحات: 619
الوزن: 776 g
أبعاد المنتج: 14 x 21 x 0٫77 cm
غلاف الكتاب: غلاف کرتونی
Genre:
Subjects:

سرگوشیاں اقبال کے ساتھ الأردية 1447

Sargoshiyāṉ Iqbāl ke sāth

المؤلف: Abdāl Belā
التقييم:
39٫66 $
7 إلی 10 اسبوع
قائمة الأمنيات
Wishlist
معلومات المنتج
 ISBN رقم: 9693536584
الفئة العمرية: البالغون
الصفحات: 619
الوزن: 776 g
أبعاد المنتج: 14 x 21 x 0٫77 cm
غلاف الكتاب: غلاف کرتونی
Genre:
Subjects:

ایک دن میرا قدیمی کلاس فیلو گہرا دوست پروفیسر ادریس فاروق بٹ میرے پاس آیا۔ اس کا آنا ہمیشہ ہی میرے لیے خوشی کا باعث ہوتا۔ ہم دیر تک گزرے وقتوں کی باتیں کرتے رہتے۔ مگر اس روز ادریس نے آنے والے وقت کی کنڈی ہلا دی۔ بولا میرا خواب سنو، خواب میرا لیکن پیغام اس میں تیرے لیے۔ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ ادریس بولا خواب میں، میں اقبالؒ کی محفل میں جا نکلا۔ دیکھا ایک کمرہ ہے۔ لوگ اقبالؒ کی طرف رخ کیے زمین پر بچھی دری پہ بیٹھے ہیں۔ میں بھی اس کمرے میں جاتا ہوں اور خاموشی سے بیٹھے لوگوں میں بیٹھ جاتا ہوں۔ سامنے اقبالؒ اپنی کرسی پہ حقے کی نے پہ ہاتھ رکھے، ہاتھ پہ اپنا چہرہ ٹکایے بیٹھے کسی گہری سوچ میں ہیں۔ سوچتے سوچتے ایک لمحہ کو چہرہ اوپر اٹھاتے ہیں۔ حقے کا ایک کش لیتے ہیں اور کہتے ہیں:


 

more

ایک دن میرا قدیمی کلاس فیلو گہرا دوست پروفیسر ادریس فاروق بٹ میرے پاس آیا۔ اس کا آنا ہمیشہ ہی میرے لیے خوشی کا باعث ہوتا۔ ہم دیر تک گزرے وقتوں کی باتیں کرتے رہتے۔ مگر اس روز ادریس نے آنے والے وقت کی کنڈی ہلا دی۔ بولا میرا خواب سنو، خواب میرا لیکن پیغام اس میں تیرے لیے۔ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ ادریس بولا خواب میں، میں اقبالؒ کی محفل میں جا نکلا۔ دیکھا ایک کمرہ ہے۔ لوگ اقبالؒ کی طرف رخ کیے زمین پر بچھی دری پہ بیٹھے ہیں۔ میں بھی اس کمرے میں جاتا ہوں اور خاموشی سے بیٹھے لوگوں میں بیٹھ جاتا ہوں۔ سامنے اقبالؒ اپنی کرسی پہ حقے کی نے پہ ہاتھ رکھے، ہاتھ پہ اپنا چہرہ ٹکایے بیٹھے کسی گہری سوچ میں ہیں۔ سوچتے سوچتے ایک لمحہ کو چہرہ اوپر اٹھاتے ہیں۔ حقے کا ایک کش لیتے ہیں اور کہتے ہیں:


 

more