پنجشنبه - 29 مرداد 1405
{"Id":0,"Name":null,"Mobile":null,"Email":null,"Token":null,"Type":0,"ReferencerId":null,"VatConfirm":false,"PublicToken":null,"Culture":"fa-ir","Currency":"usd","CurrencySign":"$","CountryIsoCode":"us","ProfileIsoCode":null,"HasSubset":false,"Discount":0.0,"IsProfileComplete":false,"HasCredit":false,"LastActivity":"0001-01-01T00:00:00"}
login
ورود
shopping cart 0
سبد خرید

سبد خرید

Menu

اطلاعات محصول
شابک: 9693537181
گروه سنی: بزرگسال
صفحات: 275
وزن: 402 g
ابعاد: 14 x 21 x 0٫4 cm
جلد کتاب: جلد سخت
موضوعات:

کشمیرتصویر 1945ءکاسفرنامہ اردو 1403

Kashmīr taṣvīr 1945 kā safarnāmah

نویسنده: Mustanṣir Ḥusayn Tāṛ
امتیاز:
21٫91 $
موجود - 1 تا 2 روز
لیست علاقه‌مندی‌ها
Wishlist
اطلاعات محصول
شابک: 9693537181
گروه سنی: بزرگسال
صفحات: 275
وزن: 402 g
ابعاد: 14 x 21 x 0٫4 cm
جلد کتاب: جلد سخت
موضوعات:


ہمارے چیمبر لین روڈ والے گھر میں، سہ منزلہ پرانی اینٹوں،سڑک پر کھلتی محراب نما چوبی گیلریوں، جن پر ہمہ وقت چکیں گری رہتی تھیں اس گھر میں ..بلند چھتوں اور بوسیدہ ہوتے شہتیروں والے وسیع کمروں میں ہمہ وقت کشمیر کی مہک پھیلی رہتی تھی...یہ مہک اخروٹ سے تراشے ہویے کشمیری گل بوٹوں سے مزین فرنیچر... منقش میزوں، کرسیوں اور مختلف دستکاریوں سے پھوٹتی رہتی تھی..اور جب گرمی شدت پر اتر آتی، لاہور شہر کی سڑکوں کا تارکول پگھلنے لگتا اور تانگوں کے ناتواں گھوڑے پیاس کی شدت کی تاب نہ لاکر مرنے لگتے اور شہری پرانے لاہور کے گرد ہالہ ہوتی ایک چھوٹی سی نہر کے باغیچوں کی چھاوں میں اپنے بچوں اور پالتو پرندوں کے ساتھ جابیٹھتے، نہر کے ٹھنڈے ٹھار پانیوں میں اپنے گرمی دانوں سے بھونے گیے بدن ڈبو کر ایک سرد راحت سے آشنا ہوتے..۔پہلوان حضرات ڈنڈ بیٹھکیں لگاتے اور خوش شکل بچے ان کے قریب جانے سے کتراتے.. تب شہتوت کی مخروطی ٹوکریوں میں بھرے ہویے کیسے کیسے پھل کشمیر سے آنے لگتے.. خوشبو والے سیب، ناشپاتیاں اور چیریاں.. اور ان میں بگو گوشے ہم بچوں کے پسندیدہ ہوتے.. انہیں کھاتے ہویے ان کی شیرینی ہماری باچھوں سے بہنے لگتی.. اخروٹ تو بوریوں کے حساب سے آتے.. اور یوں پورا گھر ان کے ذایقے کی خوشبویوں سے مہک اٹھتا..پھل اتنی بہتات سے آتے کہ ہم انہیں عزیزوں اور دوستوں میں بانٹتے پھرتے.. کاغذی اخروٹوں کو کشمیری بادام توڑنے والے نٹ کریکرز کے ساتھ کٹ کٹ توڑتے.. ہم اور ہمارا گھر کشمیر کے ساتھ جڑے ہویے تھے.. 

more


ہمارے چیمبر لین روڈ والے گھر میں، سہ منزلہ پرانی اینٹوں،سڑک پر کھلتی محراب نما چوبی گیلریوں، جن پر ہمہ وقت چکیں گری رہتی تھیں اس گھر میں ..بلند چھتوں اور بوسیدہ ہوتے شہتیروں والے وسیع کمروں میں ہمہ وقت کشمیر کی مہک پھیلی رہتی تھی...یہ مہک اخروٹ سے تراشے ہویے کشمیری گل بوٹوں سے مزین فرنیچر... منقش میزوں، کرسیوں اور مختلف دستکاریوں سے پھوٹتی رہتی تھی..اور جب گرمی شدت پر اتر آتی، لاہور شہر کی سڑکوں کا تارکول پگھلنے لگتا اور تانگوں کے ناتواں گھوڑے پیاس کی شدت کی تاب نہ لاکر مرنے لگتے اور شہری پرانے لاہور کے گرد ہالہ ہوتی ایک چھوٹی سی نہر کے باغیچوں کی چھاوں میں اپنے بچوں اور پالتو پرندوں کے ساتھ جابیٹھتے، نہر کے ٹھنڈے ٹھار پانیوں میں اپنے گرمی دانوں سے بھونے گیے بدن ڈبو کر ایک سرد راحت سے آشنا ہوتے..۔پہلوان حضرات ڈنڈ بیٹھکیں لگاتے اور خوش شکل بچے ان کے قریب جانے سے کتراتے.. تب شہتوت کی مخروطی ٹوکریوں میں بھرے ہویے کیسے کیسے پھل کشمیر سے آنے لگتے.. خوشبو والے سیب، ناشپاتیاں اور چیریاں.. اور ان میں بگو گوشے ہم بچوں کے پسندیدہ ہوتے.. انہیں کھاتے ہویے ان کی شیرینی ہماری باچھوں سے بہنے لگتی.. اخروٹ تو بوریوں کے حساب سے آتے.. اور یوں پورا گھر ان کے ذایقے کی خوشبویوں سے مہک اٹھتا..پھل اتنی بہتات سے آتے کہ ہم انہیں عزیزوں اور دوستوں میں بانٹتے پھرتے.. کاغذی اخروٹوں کو کشمیری بادام توڑنے والے نٹ کریکرز کے ساتھ کٹ کٹ توڑتے.. ہم اور ہمارا گھر کشمیر کے ساتھ جڑے ہویے تھے.. 

more