تنجلی الأردية 1448
Tanjalī
لکھنا چاہیے کہ سماج اپنے ڈھانچے میں تبدیلی کی کس طرح مزاحمت کرتا ہے اور وہ چند لوگ جو نیی اقدار، نیی سوچ یا اک نیا شعور پالیتے ہیں کیونکر منافقانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔لکھنا چاہیے کہ معاشرتی اور اخلاقی اقدار کے زوال نے انسانیت کی کس حد تک تذلیل کر رکھی ہے۔لکھنا چاہیے کہ کبھی نہ کبھی تو وہ نظام جنم لے گا جو دولت اور وسایل کی منصفانہ تقسیم کرے گا اور عدم مساوات کا خاتمہ بھی۔لکھنا چاہیے کہ مستقبل تابناک اور سہانا ہے گو کہ آج یہ بات صرف افسانوی ہی لگتی ہے
لکھنا چاہیے کہ سماج اپنے ڈھانچے میں تبدیلی کی کس طرح مزاحمت کرتا ہے اور وہ چند لوگ جو نیی اقدار، نیی سوچ یا اک نیا شعور پالیتے ہیں کیونکر منافقانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔لکھنا چاہیے کہ معاشرتی اور اخلاقی اقدار کے زوال نے انسانیت کی کس حد تک تذلیل کر رکھی ہے۔لکھنا چاہیے کہ کبھی نہ کبھی تو وہ نظام جنم لے گا جو دولت اور وسایل کی منصفانہ تقسیم کرے گا اور عدم مساوات کا خاتمہ بھی۔لکھنا چاہیے کہ مستقبل تابناک اور سہانا ہے گو کہ آج یہ بات صرف افسانوی ہی لگتی ہے

