زمین زاد کی واپسی الأردية 1447
Zamīn Zād kī Vāpasī
زمیں زاد کی واپسی “ کے عنوان سے کیا ہے۔ ٹامس ہارڈی ، وکٹورین عہد کے سب سے معتبر ناول نگار ہیں۔ انھوں نے اپنے ناولوں کے لیے، جنوب مغربی انگلستان کے ایک دیہی علاقے کو اپنا افسانوی خطہ بنایا ، جسے ویسیکس کا نام دیا۔ انھوں نے حقیقی اور افسانوی فطرت کا ایک امتزاج تخلیق کیا۔ ” زمیں زاد کی واپسی “ کی کہانی بھی اسی تخیلی خطے میں رونما ہوتی ہے، جہاں کہانی کا زمین زاد ( نیٹو) کلیم یو براییٹ ، پیرس میں ہیروں کے ایک کامیاب تاجر کی زندگی ترک کر کے، سکول کے استاد کے طور پر نیی زندگی شروع کرنے آتا ہے۔ ہارڈی کے اکثر ناولوں میں ، تقدیر ، ان کے کرداروں کو المیوں سے دوچار کرتی ہے۔ تاہم وہ تقدیر کے پہلو بہ پہلو، وکٹوریایی معاشرے پر تنقید بھی کرتے ہیں ۔ آج جب کہ دنیا ماحولیاتی بربادی سے دوچار ہے، ٹامس ہارڈی کے ناولوں کا مطالعہ ، ہمیں فطرت سے متعلق ایک نیی بصیرت مہیا کر سکتا ہے۔ ٹامس ہارڈی کے ناولوں کا ترجمہ آسان نہیں ہے۔ انیسویں صدی کے انگلستانی فکشن نگاروں کی زبان، آج کی انگریزی سے کافی مختلف ہے، نیز کرداروں اور مقامات کے نام بھی خاصے اجنبی ہیں۔ مختار پارس نے شاید اسی لیے ، یہ ناول ترجمہ کرتے ہویے، اس کے کرداروں اور مقامات کے نام بدل کر مقامی بنادیے ہیں۔ تاہم باقی پورے متن میں کویی تبدیلی نہیں کی۔ انھیں انگریزی اور اردو دونوں پر ماہرانہ اور تخلیقی دست رس حاصل ہے۔ ان کا یہ خیال ہے کہ چوں کہ ترجمہ اردو قاریین کے لیے کیا جا رہا ہے، اس لیے، اس کی فضا اردو قاری کے لیے مانوس ہونی چاہیے۔ اس ترجمے کی مانوسیت اور روانی قاری کو متاثر کرتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ قاریین ، مختار پارس کے اس ترجمے کو نہ صرف سراہیں گے ، بلکہ میں توقع رکھتا ہوں کہ مختار پارس ترجمہ و تصنیف کا یہ لایق رشک عمل جاری رکھیں گے
زمیں زاد کی واپسی “ کے عنوان سے کیا ہے۔ ٹامس ہارڈی ، وکٹورین عہد کے سب سے معتبر ناول نگار ہیں۔ انھوں نے اپنے ناولوں کے لیے، جنوب مغربی انگلستان کے ایک دیہی علاقے کو اپنا افسانوی خطہ بنایا ، جسے ویسیکس کا نام دیا۔ انھوں نے حقیقی اور افسانوی فطرت کا ایک امتزاج تخلیق کیا۔ ” زمیں زاد کی واپسی “ کی کہانی بھی اسی تخیلی خطے میں رونما ہوتی ہے، جہاں کہانی کا زمین زاد ( نیٹو) کلیم یو براییٹ ، پیرس میں ہیروں کے ایک کامیاب تاجر کی زندگی ترک کر کے، سکول کے استاد کے طور پر نیی زندگی شروع کرنے آتا ہے۔ ہارڈی کے اکثر ناولوں میں ، تقدیر ، ان کے کرداروں کو المیوں سے دوچار کرتی ہے۔ تاہم وہ تقدیر کے پہلو بہ پہلو، وکٹوریایی معاشرے پر تنقید بھی کرتے ہیں ۔ آج جب کہ دنیا ماحولیاتی بربادی سے دوچار ہے، ٹامس ہارڈی کے ناولوں کا مطالعہ ، ہمیں فطرت سے متعلق ایک نیی بصیرت مہیا کر سکتا ہے۔ ٹامس ہارڈی کے ناولوں کا ترجمہ آسان نہیں ہے۔ انیسویں صدی کے انگلستانی فکشن نگاروں کی زبان، آج کی انگریزی سے کافی مختلف ہے، نیز کرداروں اور مقامات کے نام بھی خاصے اجنبی ہیں۔ مختار پارس نے شاید اسی لیے ، یہ ناول ترجمہ کرتے ہویے، اس کے کرداروں اور مقامات کے نام بدل کر مقامی بنادیے ہیں۔ تاہم باقی پورے متن میں کویی تبدیلی نہیں کی۔ انھیں انگریزی اور اردو دونوں پر ماہرانہ اور تخلیقی دست رس حاصل ہے۔ ان کا یہ خیال ہے کہ چوں کہ ترجمہ اردو قاریین کے لیے کیا جا رہا ہے، اس لیے، اس کی فضا اردو قاری کے لیے مانوس ہونی چاہیے۔ اس ترجمے کی مانوسیت اور روانی قاری کو متاثر کرتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ قاریین ، مختار پارس کے اس ترجمے کو نہ صرف سراہیں گے ، بلکہ میں توقع رکھتا ہوں کہ مختار پارس ترجمہ و تصنیف کا یہ لایق رشک عمل جاری رکھیں گے

